اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے مقامی وقت کے مطابق پیر کی سہ پہر ہوانا میں ایران اور کیوبا کے اعلی رتبہ وفود کے اجلاس میں کیوبا کے صدر کی موجودگی میں کہا کہ دونوں کی توانائیوں اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر تمام شعبوں خصوصا اقتصادی شعبے میں تعلقات کو فروغ دینا چاہیے۔
صدر مملکت نے گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات میں ایران کی پوزیشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض طاقتور ملکوں کا خودمختار ملکوں پر دباؤ ڈالنے اور پابندیاں لگانے کا مقصد جدید اور اہم ٹیکنالوجیوں پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنا ہے۔
انھوں نے سائنس و لیکنالوجی کے شعبے میں خودمختار ملکوں کے تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اورکیوبا کو نینو اور بائیو ٹیکنالوجی سمیت جدید ٹیکنالوجیوں کے میدان میں اس تعاون میں اضافہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ اقدام تسلط پسندوں کے مقابلے میں خودمختار ملکوں کی طاقت بڑھا سکتا ہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے استعمار پسندوں اور تسلط پسندوں کے مقابل کیوبا کے عوام کی مزاحمت کے جذبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملت ایران نے بھی آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران ایسی حالت میں مزاحمت و استقامت کا مظاہرہ کیا کہ جب مشرق و مغرب جارح کی مدد کر رہے تھے اور ان ہی طاقتوں نے جنگ کے بعد بھی مختلف بہانوں سے ایران کے خلاف دباؤ اور بائیکاٹ جاری رکھا۔
کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے بھی کہا کہ کیوبا فخر کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کا ثابت قدم حلیف ہے اور کوئی بھی دونوں ملکوں کے تعلقات فروغ پانے کے عمل کو نہیں روک سکتا۔
انھوں نے کہا کہ دنیا میں جنگ، تنازعہ اور آشوب برپا کرنا بعض طاقتوں کے لیے ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲